پیر 13 جولائی 2026 - 12:21
آیۃ الله العظمیٰ حاج ملا علی کنی؛ علم، مرجعیت، بصیرت اور استقامت کا درخشاں باب

حوزہ/تاریخِ تشیع میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی خدمات صرف درس و تدریس، فقہ و اجتہاد یا دینی قیادت تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ اپنے کردار، بصیرت اور جرأتِ اظہار سے پورے عہد کی سمت متعین کر دیتی ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری میں ایران کی دینی، علمی، سماجی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے۔

ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ تشیع میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی خدمات صرف درس و تدریس، فقہ و اجتہاد یا دینی قیادت تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ وہ اپنے کردار، بصیرت اور جرأتِ اظہار سے پورے عہد کی سمت متعین کر دیتی ہیں۔ آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے تیرہویں اور چودہویں صدی ہجری میں ایران کی دینی، علمی، سماجی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے۔

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ ایران کے ممتاز فقیہ، اصولی، محدث، رجالی، مفسرِ قرآن اور مرجعِ تقلید تھے۔ فقہ، اصولِ فقہ، علمِ رجال، علمِ حدیث اور تفسیرِ قرآن میں آپ کی غیر معمولی مہارت مسلم تھی۔ نجف اشرف اور کربلا کی عظیم علمی درسگاہوں میں آپ نے اپنے زمانے کے جلیل القدر فقہاء سے کسبِ فیض کیا، پھر تہران واپس آکر دینی مرجعیت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور پوری زندگی دین، ملت اور وطن کی خدمت میں صرف کر دی۔

آپ کی شخصیت صرف علمی عظمت تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ ایک صاحبِ بصیرت رہنما، عوام کے خیر خواہ، مظلوموں کے حامی اور ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے والے بے باک مجتہد بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ناصر الدین شاہ قاجار جیسے طاقتور بادشاہ بھی آپ کے روحانی اقتدار اور عوامی اثر و رسوخ کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتے تھے۔

ولادت اور خاندانی پس منظر

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ 1220 ہجری قمری میں تہران کے شمال مغرب میں واقع قدیم علاقہ کَن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مرحوم میرزا قربان علی آملی، ایک دیندار اور نیک سیرت شخصیت تھے جنہوں نے اپنے فرزند کا نام علی رکھا۔

اس دور میں ایران سیاسی اور سماجی اعتبار سے نہایت نازک حالات سے گزر رہا تھا، لیکن اسی ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے بچے کو پروان چڑھایا جو آگے چل کر علم و فقاہت کا مینار، مرجعیتِ شیعہ کا ستون اور ملتِ اسلامیہ کا محافظ ثابت ہوا۔

ابتدائی تعلیم اور حصولِ علم کا شوق

بچپن ہی سے حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ میں علم حاصل کرنے کا غیر معمولی جذبہ موجود تھا۔ ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کرنے کے بعد آپ نے علومِ دینیہ کے حصول کا ارادہ کیا، لیکن ابتدا میں اہلِ خانہ نے اس فیصلہ سے اتفاق نہ کیا۔ اس مخالفت کے باوجود آپ کا شوقِ علم سرد نہ ہوا اور کچھ عرصہ تک خاموشی سے دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔

بالآخر اہلِ خانہ بھی آپ کے عزم اور اخلاص کے قائل ہو گئے اور انہوں نے اجازت دے دی۔ اس کے بعد آپ نے تہران کے حوزۂ علمیہ میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔ ابتدائی مراحل مکمل کرنے کے بعد اصفہان کا رخ کیا، جو اس زمانے میں علومِ اسلامی کا ایک اہم مرکز تھا۔

اصفہان میں آپ نے نامور عالم علامہ سید اسد اللہ اصفہانی مرحوم سے مختلف علوم میں استفادہ کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لئے نجف اشرف کا سفر اختیار کیا، جہاں آپ کی علمی شخصیت نے حقیقی ارتقا پایا۔

اساتذۂ کرام اور علمی ارتقا

نجف اشرف اس دور میں بھی فقہ و اصول کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔ یہاں حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کو ایسے عظیم اساتذہ کی شاگردی نصیب ہوئی جنہوں نے دنیائے تشیع کی علمی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنا نام درج کیا۔

ان میں سب سے نمایاں آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسن نجفی المعروف صاحبِ جواہر رضوان اللہ تعالی علیہ تھے، جن کی شہرۂ آفاق تصنیف جواہر الکلام آج بھی فقہِ جعفری کی بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ آپ نے صاحبِ جواہر سے فقہ اور اصول کے دقیق مباحث سیکھے اور ان کی علمی بصیرت سے بھرپور استفادہ کیا۔

اسی طرح آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسن کاشف الغطاء رضوان اللہ تعالی علیہ اور آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ مشکور حولاوی نجفی رضوان اللہ تعالی علیہ بھی آپ کے ممتاز اساتذہ میں شامل تھے، جنہوں نے فقہی تحقیق اور اجتہادی فکر میں آپ کی رہنمائی کی۔

بعد ازاں آپ کربلا کے حوزۂ علمیہ پہنچے، جہاں شریف العلماء مازندرانی رضوان اللہ تعالی علیہ اور سید ابراہیم قزوینی رضوان اللہ تعالی علیہ المعروف صاحبِ ضوابط جیسے اکابر علماء کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے۔ انہی بزرگوں کی تربیت نے آپ کو اجتہاد کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا اور فقہ، اصول، حدیث، رجال اور تفسیر میں آپ کی غیر معمولی مہارت کا راستہ ہموار کیا۔

تہران واپسی اور دینی مرجعیت

1262 ہجری میں حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ ایران واپس تشریف لائے اور تہران کو اپنی علمی و دینی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ آپ کی فقاہت، تقویٰ، زہد اور حسنِ اخلاق نے بہت جلد عوام اور علماء دونوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

رفتہ رفتہ آپ تہران کے سب سے بااثر مرجعِ تقلید بن گئے۔ ایران کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے شرعی مسائل دریافت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، جبکہ دور دراز شہروں سے تحریری استفتاءات بھی مسلسل موصول ہوتے رہتے تھے۔

استفتاءات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مقلدین کے اصرار پر 1271 ہجری قمری میں آپ کا رسالۂ عملیہ شائع کیا گیا، تاکہ عوام اپنے دینی فرائض کو اپنے مرجع تقلید کے فتاویٰ کے مطابق ادا کر سکیں۔

1282 ہجری قمری میں آپ کو مدرسۂ مروی کی تولیت سونپی گئی، جہاں آپ نے تدریس، تربیتِ علماء اور دینی خدمات کو مزید فروغ دیا۔ اس مدرسہ نے آپ کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر لی۔

مورخ اعتمادالسلطنہ لکھتے ہیں کہ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کا اثر و رسوخ اس قدر وسیع تھا کہ بعض اوقات ریاستی حکام کے شرعی مقدمات بھی فیصلے کے لئے آپ کی عدالت میں پیش کئے جاتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی علمی حیثیت کے ساتھ ساتھ عوام اور حکومت دونوں آپ کے فیصلوں پر اعتماد کرتے تھے۔

مرجعیت، عوامی اعتماد اور سماجی مقام

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی مرجعیت صرف دینی فتاویٰ تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ عوام کے مذہبی، سماجی اور اخلاقی مسائل کے بھی سب سے معتبر رہنما تھے۔ لوگ اپنے گھریلو تنازعات، مالی معاملات، شرعی اختلافات اور دیگر اہم امور میں بھی آپ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ایران کے بیشتر شیعہ آپ کے مقلد بن گئے، جبکہ تہران کے اکثر علماء بھی آپ ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ آپ کی شخصیت علم، تقویٰ، عدل اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی، اسی لئے عوام کے دلوں میں آپ کے لئے بے مثال محبت اور اعتماد پایا جاتا تھا۔

سیاسی بصیرت اور قومی شعور

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ ان علماء میں سے تھے جو دین کو صرف عبادات تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح، عدل کے قیام اور وطن کی آزادی کے تحفظ کا ضامن قرار دیتے تھے۔ اسی لئے وہ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے اور جب بھی دین یا ملت کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا، پوری جرأت کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرتے تھے۔

ان کے ہم عصر عالم آیۃ اللہ علی اصغر جاپلقی رضوان اللہ تعالی علیہ (صاحب طرائف المقال) لکھتے ہیں کہ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ مظلوموں کی پناہ گاہ، اہلِ اقتدار پر اثر انداز ہونے والی شخصیت اور عوام کے حقیقی رہنما تھے۔ ناصر الدین شاہ قاجار بھی ان کی رائے کو غیر معمولی اہمیت دیتا تھا۔

1290 ہجری میں جب بدنامِ زمانہ معاہدۂ رویٹر طے پایا، جس کے نتیجہ میں ایران کے وسیع قومی وسائل ایک غیر ملکی کمپنی کے سپرد کئے جا رہے تھے، تو حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے سب سے پہلے اس کے خلاف آواز بلند کی۔

آپ نے ناصر الدین شاہ کو ایک نہایت مدلل، جرأت مندانہ اور تاریخی خط تحریر کیا، جس میں واضح کیا کہ عوام کی املاک، زمینوں، باغات اور معدنی وسائل کو اس انداز میں غیر ملکیوں کے حوالے کرنا نہ صرف اسلامی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ایران کی خودمختاری اور قومی وقار کے لئے بھی شدید خطرہ ہے۔

آپ نے یورپی ممالک کے شہری حقوق کی مثال دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر یہ معاہدہ نافذ ہو گیا تو متعلقہ کمپنی کو ایران میں ایسے اختیارات حاصل ہو جائیں گے جو ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے اختیارات سے بھی زیادہ وسیع ہوں گے۔ اس خط میں آپ نے اس اصول پر بھی زور دیا کہ علماء پر لازم ہے کہ وہ حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کریں، خواہ ان کی نصیحت قبول کی جائے یا نہ کی جائے۔

آپ نے ناصر الدین شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دین و مملکت کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ہر اس شخص کو اقتدار سے دور کرے جو قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے، خصوصاً وزیرِ اعظم میرزا حسین خان سپہسالار کو، جس نے اس معاہدے کی راہ ہموار کی تھی۔ بعد ازاں شاہ نے اسے معزول کر دیا۔

اسی خط میں آپ نے میرزا ملکم خان کے قائم کردہ فراموشخانہ کی بھی سخت مخالفت کی اور اسے دینی و قومی مفادات کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔

یہ خط صرف ایک احتجاجی مکتوب نہیں تھا، بلکہ ایک باشعور مرجعِ دین کی سیاسی بصیرت، قومی غیرت اور عوامی قیادت کا تاریخی منشور تھا، جس نے بعد کے اسلامی سیاسی شعور پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔

علمی رفقاء اور ایامِ طالب علمی

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی علمی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی ان عظیم شخصیات سے رفاقت ہے، جنہوں نے بعد میں دنیائے تشیع میں فقاہت و مرجعیت کے آسمان پر درخشاں ستاروں کی حیثیت اختیار کی۔ نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ میں آپ ایسے باصلاحیت اور مخلص طلبہ کے حلقہ میں شامل تھے جو علم کو محض معاشی وسیلہ نہیں، بلکہ رضائے الٰہی اور خدمتِ دین کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

آپ کے ہم حجرہ (روم پارٹنر) رفقاء میں آیۃ اللہ العظمیٰ ملا علی خلیلی، آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالحسین تہرانی (شیخ العراقین) اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید زین العابدین طباطبائی حائری رضوان اللہ تعالی علیہم شامل تھے۔ یہ حضرات علم، تقویٰ، زہد اور باہمی اخلاص میں ایک دوسرے کے معاون تھے۔ غربت، تنگ دستی اور سخت حالات کے باوجود ان کی علمی جستجو کبھی ماند نہ پڑی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید زین العابدین طباطبائی حائری رضوان اللہ تعالی علیہ نے ان دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے لکھا: "نجف میں طالب علمی کے زمانے میں میں، شیخ عبدالحسین اور آخوند ملا علی کنی ایک ہی حجرے میں رہتے تھے۔ ہم سب شدید غربت میں زندگی گزار رہے تھے، لیکن ہم سب سے زیادہ تنگ دست حاج ملا علی کنی تھے۔ وہ ہر ہفتہ ایک رات مسجدِ سہلہ جاتے اور اس طرح کہ کسی کو خبر نہ ہوتی، مسجد کے مختلف گوشوں سے خشک روٹیاں جمع کر کے مدرسہ لے آتے اور پورا ہفتہ انہی کے سہارے بسر کرتے تھے۔"

یہ واقعہ صرف غربت کی داستان نہیں بلکہ اس عزم و استقلال کی روشن مثال ہے جس کے ذریعہ ایک طالبِ علم نے دنیا کی سختیوں کو برداشت کر کے علم و اجتہاد کی بلند منزلیں طے کیں۔

اسی طرح خاتم الفقہاء شیخ مرتضیٰ انصاری رضوان اللہ تعالی علیہ سے آپ کی دوستی بھی علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ خود بیان کرتے تھے: "میں تقریباً بیس سال تک کربلا میں شیخ مرتضیٰ انصاری رضوان اللہ تعالی علیہ کا ہم عصر اور قریبی دوست رہا۔ ان کے پاس ایک عمامہ کے سوا کوئی سامان نہ تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں اسی عمامہ کو بچھونا بنا لیتے اور باہر نکلتے وقت وہی عمامہ سر پر باندھ لیتے تھے۔"

یہ یادیں اس دور کے علماء کی زاہدانہ زندگی، اخلاص اور علم دوستی کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔

اسفار اور اہلِ بیت علیہم السلام سے عقیدت

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اپنی زندگی میں متعدد زیارتی سفر کئے۔ ان کے لئے زیارت صرف ایک عبادت نہ تھی بلکہ اہلِ بیت علیہم السلام سے قلبی وابستگی اور روحانی تجدید کا ذریعہ تھی۔

ایک مرتبہ حج کی ادائیگی کے بعد واپسی پر آپ، عظیم مرجعِ تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ کے ہمراہ شام پہنچے تاکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضۂ مبارک کی زیارت کر سکیں۔

جب دونوں بزرگ حرمِ مطہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ روضۂ مبارک کی صفائی کا مناسب انتظام نہیں، ضریحِ مقدس پر گرد و غبار جمی ہوئی ہے اور روضہ مبارک بے توجہی کا شکار ہے۔

یہ منظر دیکھ کر دونوں بزرگ بے حد رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے کسی خادم یا منتظم کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود اپنی عباؤں کے کناروں سے گرد و غبار صاف کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے حرم کے مختلف حصوں کی صفائی کی اور روضۂ مبارک کو اپنے ہاتھوں سے آراستہ کیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ حقیقی عظمت منصب اور شہرت میں نہیں بلکہ تواضع، عشقِ اہلِ بیت علیہم السلام اور خدمت کے جذبہ میں ہوتی ہے۔

تربیتِ شاگرد اور علمی خدمات

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے صرف خود علم حاصل نہیں کیا بلکہ ایک ایسی علمی نسل بھی تیار کی جس نے بعد میں مختلف علاقوں میں فقہ و معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آپ کے حلقۂ درس سے متعدد جلیل القدر علماء نے استفادہ کیا، جن میں نمایاں نام یہ ہیں: آیات عظام شیخ موسیٰ شرارہ عاملی، شیخ محمد باقر نجم آبادی، شیخ اسد اللہ تہرانی، سید محمود حیاط شاہی، سید محمد لواسانی، سید محمد مرعشی، ملا محمد علی خوانساری، ملا محمد تقی سنجابی، میرزا حسین نائب الصدر، شیخ محمد حسین گرگانی، شیخ حسین بافقی رضوان اللہ تعالی علیہم

یہ تمام شخصیات بعد میں مختلف علمی مراکز کی زینت بنیں اور اپنے استاد کے علمی مکتبِ فکر کو آگے بڑھایا۔

مؤمنین و عوام کے مقتدا

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ عوام و خواص دونوں کے دلوں میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ ان کی سادگی، عدل، تقویٰ، خدمتِ خلق اور جرأت نے انہیں ایک محبوب مرجع بنا دیا تھا۔

ایران میں امریکہ کے پہلے سفیر ساموئیل گرین ویلر بنجامین نے اپنی یادداشتوں میں لکھا: "حاج ملا علی کنی موجودہ دور کے سب سے بڑے مجتہد ہیں۔ وہ نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اگرچہ بڑی جائیداد کے مالک ہیں لیکن نمود و نمائش سے کوسوں دور ہیں۔ جب وہ ایک سفید خچر پر سوار ہو کر گزرتے ہیں تو لوگ اس طرح ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جیسے کوئی آسمانی ہستی گزر رہی ہو۔ اگر وہ ایک لفظ بھی کہہ دیں تو بادشاہ کی حکومت متزلزل ہو سکتی ہے۔"

یہ بیان اس غیر معمولی عوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو ایک مرجعِ دین کو حاصل تھا۔

خدمتِ خلق کا جذبہ

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کا دروازہ ہر ضرورت مند کے لئے کھلا رہتا تھا۔

وہ یتیم بچوں کی کفالت کرتے، غریب خاندانوں کے لئے ماہانہ وظائف مقرر فرماتے، بیمار اور نادار افراد کے علاج کے اخراجات برداشت کرتے اور ضرورت مندوں کی دواؤں کی قیمت ادا کرنے کے لئے خصوصی مراکز قائم کئے ہوئے تھے۔

آپ نے عوام الناس کی سہولت کے لئے متعدد پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک تعمیر کرائے، جبکہ مسافروں کی آسانی کے لئے کاروان سرائیں بھی بنوائیں۔ خاتون آباد کی کاروان سرا ان کی رفاہی خدمات کی ایک نمایاں یادگار ہے۔

ان کی مہر بھی عوام میں غیر معمولی اعتبار رکھتی تھی۔ لوگ اپنے تجارتی معاہدوں اور اہم دستاویزات کی تصدیق کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، کیونکہ معاشرے میں آپ کی دیانت اور عدالت مسلم تھی۔

ظالم حکمرانوں کے مقابل ایک آہنی دیوار

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شخصیت کا سب سے درخشاں پہلو ظلم کے سامنے بے خوفی سے ڈٹ جانا تھا۔

معاصر مؤرخین لکھتے ہیں کہ ناصر الدین شاہ قاجار، اپنی تمام تر شاہانہ طاقت کے باوجود، اس مرجعِ دین کے روحانی اقتدار سے خوف زدہ رہتا تھا۔

مرزا محمد مہدی لکھنوی مرحوم لکھتے ہیں: "حاج ملا علی کنی کا حکم اس قدر نافذ تھا کہ سلطان، شہزادے اور امراء بھی ان کی اجازت کے بغیر کوئی اہم قدم اٹھانے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔"

ایک روز ناصر الدین شاہ شکار کے لئے شہر سے باہر نکلا۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر اس نے پیچھے مڑ کر تہران کی طرف دیکھا، اچانک اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے فوراً واپس لوٹنے کا حکم دے دیا۔

جب درباریوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا: "میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت حاج ملا علی کنی حکم دے دیں کہ شہر کا دروازہ میرے لئے بند کر دیا جائے تو میں کچھ بھی نہیں کر سکوں گا۔ یہی سوچ مجھے واپس لے آئی۔"

یہ واقعہ کسی فوجی طاقت کا نہیں بلکہ ایک عالمِ ربانی کے اخلاقی اقتدار کا مظہر تھا۔

حق گوئی کی بے نظیر مثال

ایک دن ناصر الدین شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا: "حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل ہیں، تو کیا آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اپنے عصا کو اژدہا بنا سکتے ہیں؟" حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بلا تردد جواب دیا: "ہاں، اگر تم فرعون کی طرح خدائی کا دعویٰ کرو تو ہم بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح عصا کو اژدہا بنا دیں گے۔"

یہ جواب صرف حاضر جوابی نہ تھا بلکہ ایک ظالم حکمران کو اس کی حیثیت یاد دلانے کا نہایت بلیغ انداز تھا۔

حکمت و وقار کی ایک مثال

ناصر الدین شاہ کے بیٹے کامران مرزا ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ گفتگو کے دوران حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: "میرے پاؤں میں تکلیف ہے، اس لئے اسے سیدھا کرنا چاہتا ہوں۔"

کامران مرزا نے تکبر سے کہا: "میرے پاؤں میں بھی درد ہے، اگر اجازت ہو تو میں بھی اپنا پاؤں پھیلا لوں۔"

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے نہایت حکمت کے ساتھ فرمایا: "میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ رکھا ہے، اس لئے اپنا پاؤں پھیلا رہا ہوں؛ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے بھی اپنا ہاتھ اس طرح سمیٹا ہو کہ آپ کو اپنا پاؤں پھیلانے کی ضرورت پیش آئے۔"

یہ مختصر جملہ دراصل ظلم، تکبر اور ناجائز دولت پر ایک گہرا تبصرہ تھا۔

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب علم کے ساتھ تقویٰ، اخلاص، شجاعت اور خدمتِ خلق جمع ہو جائیں تو ایک عالم نہ صرف دلوں پر حکومت کرتا ہے بلکہ تاریخ کا رخ بھی موڑ دیتا ہے۔ ان کی سادگی، عوام سے محبت، حکمرانوں کے سامنے حق گوئی اور اہلِ بیت علیہم السلام سے بے مثال عقیدت آج بھی علماء اور دینی رہنماؤں کے لئے ایک روشن نمونہ ہے۔

علمی مقام

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ اپنے عہد کے ممتاز فقہاء، اصولیین، محدثین اور علمائے رجال میں شمار ہوتے تھے۔ فقہ، اصولِ فقہ، علمِ حدیث، علمِ رجال اور تفسیرِ قرآن پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ ان کے اجتہاد، علمی دقتِ نظر اور استنباط کی قوت کا اعتراف ان کے معاصر اکابر علماء نے بھی کیا۔ ایران میں انہیں اپنے زمانے کے چار عظیم مجتہدین میں شمار کیا جاتا تھا، جبکہ ان کے فقہی نظریات بعد کے فقہاء کے لئے بھی مرجع و مستند رہے۔

ملا علی کنیؒ اپنے ہم عصر علماء کی تکریم اور علمی خدمات کے اعتراف میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ علمی اختلاف کے باوجود وہ اہلِ علم کے احترام اور باہمی تعاون کو دینی ترقی کا لازمی ذریعہ سمجھتے تھے۔

اخلاقی اوصاف

اگرچہ ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کے پاس وافر مالی وسائل موجود تھے، لیکن ان کی ذاتی زندگی زہد، قناعت، سادگی اور عبادت کا نمونہ تھی۔ وہ اپنی دولت کو ذاتی آسائش کے بجائے عوامی فلاح، غرباء کی امداد، یتیموں کی کفالت، مریضوں کے علاج اور دینی مراکز کی سرپرستی پر صرف کرتے تھے۔

آپ کی شخصیت میں تواضع، حلم، سخاوت، عدل، حق گوئی اور بے خوفی نمایاں صفات تھیں۔ بادشاہ اور امراء بھی آپ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے، مگر آپ نے کبھی اقتدار کے دباؤ کو قبول نہیں کیا اور ہمیشہ حق و انصاف کا ساتھ دیا۔

وفات

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کا انتقال 27 محرم الحرام 1306 ہجری میں تہران میں ہوا۔ آپ کی وفات کی خبر پورے ایران میں غم و اندوہ کے ساتھ سنی گئی۔ آپ کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جن میں علماء، طلبہ، عوام اور مختلف طبقات کے افراد شامل تھے۔ بعد ازاں آپ کو حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کے روضۂ مبارک، شہرِ ری میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی اہلِ علم اور عقیدت مند ان کی قبر کی زیارت کرتے ہیں۔

علمی آثار

حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے فقہ، اصول، رجال، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر متعدد گراں قدر علمی آثار چھوڑے، جن میں سے بہت سی کتابیں آج بھی اہلِ علم کے لئے اہم مراجع شمار ہوتی ہیں۔

فقہی آثار

- ارشاد الامۃ (فارسی رسالۂ عملیہ)

- تلخیص المسائل

- تحقیق الدلائل (تلخیص المسائل کی شرح)

- حاشیہ بر جواہر الکلام

دیگر علمی تصانیف

- توضیح المقال (علمِ رجال و درایہ)

- ایضاح المشتبہات فی تفسیر الکلمات المشکلۃ القرآنیۃ

- مواعظ حسنہ

- اصولِ فقہ کے موضوعات، خصوصاً اوامر و نواہی، مفاہیم اور استصحاب پر متعدد رسائل

خصوصاً توضیح المقال علمِ رجال کی نہایت اہم کتاب شمار ہوتی ہے، جس سے بعد کے محدثین اور رجالی علماء نے وسیع استفادہ کیا۔

اولاد اور علمی جانشین

آیۃ اللہ العظمیٰ ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کے بعد ان کے خاندان کے متعدد افراد نے دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان میں آیۃ اللہ شیخ جواد کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نمایاں شخصیت تھے، جنہوں نے نجف اشرف میں آخوند خراسانی رضوان اللہ تعالی علیہ اور دیگر بزرگ علماء سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں شہرِ ری میں علمی و سماجی قیادت سنبھالی۔

شیخ جواد کنی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بھی کئی اہم تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں:

- الخصائص العظیمیہ

- تذکرۃ ری

- نور الآفاق

- التحفۃ العظیمیہ

- الاخبار العظیمیہ

خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

علمی و تاریخی میراث

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک حقیقی عالمِ دین صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دین، معاشرے اور ملت کے تحفظ کو اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے مرجعیت کو عوامی خدمت، علمی تحقیق، سیاسی بصیرت اور استعمار کے خلاف مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

معاہدۂ رویٹر کی مخالفت، مظلوموں کی حمایت، دینی مراکز کی سرپرستی، ہزاروں طلبہ کی تربیت اور فقہی و رجالی خدمات نے انہیں تاریخِ تشیع کے ان عظیم مراجع میں شامل کر دیا جن کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ آج بھی ان کی علمی میراث، کردار، استقامت اور دینی غیرت علماء، طلبہ اور اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha